UmmahWatch
Free Palestine
Logo
islamic knowledge

زندگی کا مقصد: اسلام کے مطابق ہم اس دنیا میں کیوں ہیں؟

مصنف Admin
بصیرت شائع ہوئی 1 Ramadan 1447 AH
زندگی کا مقصد: اسلام کے مطابق ہم اس دنیا میں کیوں ہیں؟

کیا آپ نے کبھی کھلے آسمان تلے کھڑے ہو کر ستاروں سے بھری رات کو دیکھا ہے اور اپنے آپ کو بہت چھوٹا محسوس کیا ہے؟ کیا آپ نے کبھی سورج کو طلوع ہوتے دیکھا ہے، جب وہ افق کو سنہری اور نارنجی رنگوں سے رنگ دیتا ہے، اور اپنے دل کی گہرائیوں میں یہ سوچا ہے کہ "کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟" یہ فطری تجسس، مابعدالطبیعات کی طرف یہ کھنچاؤ کوئی حادثہ نہیں ہے۔ یہ اس سوال کی بازگشت ہے جو ہر انسان کے دل میں پیدا کیا گیا ہے: میں یہاں کیوں ہوں؟

جدید زندگی کی دوڑ دھوپ اور شور میں، یہ سوال اکثر ڈیڈ لائنز، معاشرتی ذمہ داریوں اور دنیاوی کامیابی کی لامتناہی دوڑ میں دب کر رہ جاتا ہے۔ ہم ترقی کے پیچھے بھاگتے ہیں، گھر بناتے ہیں، رشتے قائم کرتے ہیں، اور اس کے باوجود، ایک گہرا خلا باقی رہ جاتا ہے۔ یہ خلا اس لیے ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کے 'کیسے' کو 'کیوں' سے منقطع کر دیا ہے۔ اسلام اس بنیادی سوال کا سب سے واضح اور اطمینان بخش جواب فراہم کرتا ہے، ایک ایسا جواب جو نہ صرف ذہنی سکون دیتا ہے بلکہ ہماری زندگی کے ہر لمحے کو ایک گہرا مقصد عطا کرتا ہے۔

ہمارے مقصد کے بارے میں سب سے اہم آیت

اپنے مقصد کو سمجھنے کے لیے، ہمیں اپنے وجود کے اصل ماخذ یعنی قرآن ہی کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ، جو حکیم و دانا ہے، ہمیں اندھیرے میں نہیں چھوڑتا۔ ایک آیت میں، جو اسلامی فلسفہ کی بنیاد ہے، وہ ارشاد فرماتا ہے:

"اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر صرف اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔" (القرآن، سورۃ الذاریات ۵۱:۵۶)

یہ ایک جملہ ہماری زندگی کا مکمل کمپاس ہے۔ یہ تمام تر ابہام کو ختم کرتا ہے اور ہمیں ایک واضح مقصد عطا کرتا ہے: اللہ کی عبادت۔ لیکن 'عبادت' کا حقیقی مطلب کیا ہے؟ ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ عبادت کو صرف نماز، روزہ جیسے رسمی اعمال تک محدود کر دیا جائے۔ اگرچہ یہ ہمارے دین کے ستون ہیں، لیکن اسلام میں عبادت کا تصور اس سے کہیں زیادہ وسیع اور خوبصورت ہے۔

عبادت کی نئی تعریف: اپنی پوری زندگی کو عبادت میں بدل دیں

ایک ہیرے کا تصور کریں۔ ایک واحد، شاندار نگینہ۔ اب تصور کریں کہ آپ کے دن کا ہر لمحہ، آپ کا ہر عمل، اس ہیرے کا ایک نیا پہلو بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اللہ کی خوشنودی کی روشنی کو منعکس کرتا ہے۔ یہ ہے عبادت کو صحیح طور پر سمجھنے کی طاقت۔

عبادت، اپنے جوہر میں، ہر وہ قول و فعل ہے جو اللہ کو پسند ہے اور جس سے وہ راضی ہوتا ہے، خواہ وہ ظاہری ہو یا پوشیدہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی پوری زندگی عبادت بن سکتی ہے اگر اسے صحیح نیت (نیّت) کے ساتھ کیا جائے۔

آپ کا کام: جب آپ اپنے خاندان کے لیے حلال روزی کمانے، اپنے کاروبار میں دیانت داری برتنے اور معاشرے کو فائدہ پہنچانے کی نیت سے اپنی ملازمت پر جاتے ہیں، تو آپ کا 9 سے 5 کام عبادت بن جاتا ہے۔

آپ کے تعلقات: جب آپ اپنے شریک حیات کو دیکھ کر مسکراتے ہیں، اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہیں، یا کسی بیمار رشتہ دار کی عیادت کرتے ہیں، اور اس کے ذریعے رشتوں کو مضبوط کرنے کی اللہ کی رضا چاہتے ہیں، تو آپ عبادت کی حالت میں ہوتے ہیں۔

آپ کی روزمرہ کی عادات: جب آپ اس نیت سے کھاتے ہیں کہ اللہ کی فرمانبرداری کے لیے اپنے جسم کو توانائی دوں، یا اس نیت سے سوتے ہیں کہ فجر کی نماز کے لیے اٹھ سکوں، تو یہ معمولی اعمال بھی عبادت کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اصول کو اپنی پوری زندگی میں عملی طور پر دکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لوگوں پر ہر دن کے طلوع ہونے پر ان کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ واجب ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے۔ کسی شخص کو اس کے جانور پر سوار ہونے میں مدد کرنا اور اس کا سامان اس پر لدوانا صدقہ ہے۔ اچھی بات کہنا صدقہ ہے۔ نماز کی طرف اٹھایا گیا ہر قدم صدقہ ہے۔ اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا صدقہ ہے۔" (صحیح البخاری، حدیث ۲۹۸۹)

یہ ایک حدیث بتاتی ہے کہ کس طرح ہر مثبت عمل، خواہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، ہمارے مقصد کو پورا کرنے کا ایک موقع ہے۔

اللہ نے ہمیں کیوں پیدا کیا؟ ضرورت نہیں، تعلق کی طلب

اس سے ایک گہرا سوال پیدا ہوتا ہے: اگر اللہ غنی ہے (بےنیاز، جو کسی کا محتاج نہیں)، تو اس نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے کیوں پیدا کیا؟ کیا اسے ہماری عبادت کی ضرورت تھی؟ ہرگز نہیں۔ اللہ کامل اور مکمل ہے، اور ہماری عبادت اس کی شان میں کوئی اضافہ نہیں کرتی، جس طرح ہماری نافرمانی اس کے کمال میں کوئی کمی نہیں لاتی۔

عظیم مفسر قرآن امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تاکہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ (تفسیر ابن کثیر، سورۃ الذاریات ۵۱:۵۶)

سورج کی مثال لیجیے۔ سورج کو زمین کی یا اس پر موجود زندگی کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کا وجود ہم سے آزاد ہے۔ لیکن ہم، زمین، اور تمام جاندار اس کی روشنی اور حرارت پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔ اسی طرح، اللہ ہم سے مکمل طور پر بےنیاز ہے، لیکن ہم اس پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔ عبادت وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم اس کی روشنی، ہدایت اور رحمت حاصل کرتے ہیں۔ یہ اس کے فائدے کے لیے نہیں، ہمارے اپنے فائدے کے لیے ہے۔

اللہ تعالیٰ ایک حدیث قدسی میں ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے:

"اے میرے بندو! اگر تم میں سے پہلے اور آخر، انسان اور جن، سب ایک میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کی مانگی ہوئی چیز دے دوں، تو اس سے میرے پاس جو کچھ ہے اس میں اتنی بھی کمی نہیں ہوگی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے سمندر میں کمی ہوتی ہے۔" (صحیح مسلم، حدیث ۲۵۷۷)

ہماری عبادت سے اللہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، فائدہ ہمیں خود پہنچتا ہے۔ یہ ہمارے دلوں کو پاک کرتی ہے، ہمیں راستہ دکھاتی ہے، اور آنے والی ابدی زندگی کے لیے تیار کرتی ہے۔

مقصد کو نظرانداز کرنے کے نتائج

جب ہم اپنے مقصد سے منقطع ہو کر زندگی گزارتے ہیں، تو یہ ایسے ہے جیسے کوئی بغیر منزل کے گاڑی چلا رہا ہو۔ ہو سکتا ہے گاڑی آرام دہ ہو اور اس کا ساؤنڈ سسٹم بہترین ہو، لیکن ہم صرف چکر کاٹ رہے ہیں، ایندھن ضائع کر رہے ہیں، اور آخرکار کہیں نہیں پہنچ رہے۔ ایندھن ہمارا وقت، ہماری توانائی اور ہماری زندگی ہے۔

اپنے مقصد کو تسلیم کیے بغیر زندگی گزارنا ایک گہری روحانی بےچینی پیدا کرتا ہے۔ ہم دولت، مرتبہ اور تجربات جمع کرتے ہیں، لیکن خلا برقرار رہتا ہے۔ اللہ ایسے شخص کے بارے میں قرآن میں فرماتا ہے:

"اور جو کوئی میری یاد سے منہ پھیرے گا تو اس کے لیے تنگ زندگی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔" (القرآن، سورۃ طٰہٰ ۲۰:۱۲۴)

یہ تنگی ضروری نہیں کہ غربت یا بیماری ہو، بلکہ یہ وہ اندرونی خلا ہے، بےمعنویت کا وہ احساس ہے جسے کوئی دنیاوی کامیابی نہیں بھر سکتی۔

زندگی کا امتحان: یہ دنیا ہمارا آخری ٹھکانہ کیوں نہیں

اپنے مقصد کو سمجھنے کا مطلب اس دنیا کی نوعیت کو سمجھنا بھی ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ یہ زندگی ایک امتحان ہے—ایک عارضی قیام گاہ جہاں ہمیں آزادی دی گئی ہے کہ ہم صحیح اور غلط، ایمان اور کفر کے درمیان انتخاب کریں۔

اللہ فرماتا ہے:

"جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں بہتر ہے۔ اور وہ غالب بخشنے والا ہے۔" (القرآن، سورۃ الملک ۶۷:۲)

یہ آیت بہت گہری ہے۔ غور کریں کہ اللہ یہ نہیں فرماتا کہ "کون زیادہ عمل کرتا ہے" بلکہ "عمل میں بہتر کون ہے"۔ مقدار سے زیادہ معیار اہم ہے۔ عمل اس وقت "بہترین" ہوتا ہے جب وہ خالصتاً اللہ کے لیے کیا جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ہو۔

یہ دنیا اپنی تمام خوبصورتی اور آزمائشوں کے ساتھ، ایک کسان کے کھیت کی مانند ہے۔ ہم یہاں اپنے نیک اعمال کے بیج بوتے ہیں اور ان کی فصل آخرت میں کاٹتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"دنیا مومن کے لیے جیل ہے اور کافر کے لیے جنت۔" (صحیح مسلم، حدیث ۲۹۵۶)

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مومن اکثر اس دنیا میں محدود محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ ہر اس چیز میں ملوث نہیں ہو سکتے جو وہ چاہتے ہیں—ان کی اخلاقی اور شرعی حدود ہیں۔ لیکن یہ "جیل" آخرت میں حقیقی آزادی اور جنت کی طرف لے جاتی ہے۔

عملی اقدامات: ہر روز مقصد کے ساتھ زندگی گزارنا

اپنے مقصد کو جاننا ایک چیز ہے، اور اس کے مطابق زندگی گزارنا دوسری چیز ہے۔ یہاں کچھ عملی اقدامات ہیں جو آپ کو اپنی روزمرہ زندگی کو اس مقصد کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیں گے جس کے لیے آپ پیدا کیے گئے ہیں:

۱. دن کا آغاز نیت سے کریں: بستر سے اٹھنے سے پہلے، پختہ نیت کریں کہ آپ پورے دن اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ سادہ عمل آپ کے پورے دن کو عبادت میں بدل دیتا ہے۔

۲. اللہ کے نام سیکھیں: آپ اللہ کے بارے میں جتنا زیادہ جانیں گے—اس کی رحمت، اس کی حکمت، اس کی قدرت—اتنا ہی زیادہ آپ اس سے محبت کریں گے اور اس کی عبادت کرنا چاہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کے ننانوے نام ہیں، ایک کم سو، اور جو انہیں سیکھے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔" (صحیح البخاری، حدیث ۷۳۹۲)

۳. عمل سے پہلے توقف کریں: کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے، اپنے آپ سے پوچھیں: "کیا یہ عمل مجھے اللہ کے قریب لے جائے گا یا دور؟" یہ سادہ سا سوال بہت سے پچھتاووں سے بچا سکتا ہے۔

۴. ذمہ داریوں کو مواقع میں تبدیل کریں: آپ کا کام، آپ کی خاندانی ذمہ داریاں، آپ کے روزمرہ کے کام—یہ سب صحیح نیت سے عبادت بن سکتے ہیں۔

۵. باقاعدگی سے علم حاصل کریں: ہر ہفتے اپنے دین کے بارے میں سیکھنے کے لیے وقت نکالیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کوئی راستہ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔" (صحیح مسلم، حدیث ۲۶۹۹)

۶. تخلیق پر غور کریں: قدرت کو دیکھنے کے لیے وقت نکالیں—آسمان، درخت، آپ کا اپنا جسم۔ ان میں سے ہر ایک خالق کی طرف اشارہ کرنے والی نشانی ہے۔

۷. نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں: اپنے آپ کو ان لوگوں میں رکھیں جو آپ کو آپ کے مقصد کی یاد دلاتے ہیں۔

حتمی کامیابی: ایک سفر، منزل نہیں

اپنے مقصد کو سمجھنا کوئی ایک بار کا واقعہ نہیں ہے، جیسے کسی کورس سے فارغ التحصیل ہونا۔ یہ روزانہ عزم کی تجدید ہے، مسلسل درستگی ہے۔

اس مقصد کو پورا کرنے کا حتمی انعام نہ صرف اس دنیا میں سکون ہے بلکہ آخرت میں ابدی خوشی ہے۔ اللہ ہمیں بتاتا ہے ان لوگوں کے آخری ٹھکانے کے بارے میں جنہوں نے اپنے مقصد کے ساتھ زندگی گزاری:

"بے شک نیک لوگ نعمت میں ہوں گے۔" (القرآن، سورۃ الانفطار ۸۲:۱۳)

یہ نعمت صرف جسمانی نہیں ہے؛ یہ اپنے رب کو دیکھنے کی حتمی خوشی ہے، اس کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی، اس خوبصورت منصوبے کو سمجھنے کی جس کے لیے آپ پیدا کیے گئے تھے۔

لہذا، اگلی بار جب آپ اپنے دل میں اس کھنچاؤ کو محسوس کریں، کائنات میں اپنے مقام کے بارے میں وہ سوال، تو یاد رکھیں کہ یہ ایک دعوت ہے۔ اپنے خالق کی طرف لوٹنے کی دعوت، اپنی زندگی کو اپنے مقصد کے مطابق ڈھالنے کی، اور ہر لمحے کو اس کی طرف واپسی کے سفر میں ایک بامعنی قدم میں تبدیل کرنے کی۔ اس سوال کا جواب "ہم یہاں کیوں ہیں؟" سادہ ہے، لیکن بےحد گہرا ہے: ہم یہاں اسے جاننے، اس سے محبت کرنے اور اس کی عبادت کرنے کے لیے ہیں، اور اس عبادت میں، وہ سکون اور مقصد حاصل کرنے کے لیے جس کی ہماری روحیں شدت سے خواہاں ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو اپنے مقصد کو سمجھتے ہیں اور اپنی زندگیاں اس کی رضا کی تلاش میں گزارتے ہیں۔ آمین۔

حوالہ جات:

  • قرآن، سورۃ الذاریات ۵۱:۵۶
  • قرآن، سورۃ طٰہٰ ۲۰:۱۲۴
  • قرآن، سورۃ الملک ۶۷:۲
  • قرآن، سورۃ آل عمران ۳:۱۹۰
  • قرآن، سورۃ الانفطار ۸۲:۱۳
  • صحیح البخاری، حدیث ۲۹۸۹
  • صحیح البخاری، حدیث ۷۳۹۲
  • صحیح مسلم، حدیث ۲۵۷۷
  • صحیح مسلم، حدیث ۲۹۵۶
  • صحیح مسلم، حدیث ۲۶۹۹
  • صحیح مسلم، حدیث ۱۸۱
  • تفسیر ابن کثیر، سورۃ الذاریات ۵۱:۵۶

کثیر لسانی تعاون

یہ مضمون متعدد مقدس زبانوں میں دستیاب ہے۔